(9)
بنیادی انسانی،جمہوری وسماجی حقوق کی بحالی وتحفظ
بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچستان میں سیاسی وسماجی ڈھانچے کو قومی جمہوری سانچے میں ڈھالنے کے لیے بنیادی انسانی،جمہوری وسماجی حقوق کی بحالی وتحفظ کے لیے
مندرجہ ذیل نکات پرجدوجہد کرے گی
(i)
بلوچ نیشنل موومنٹ،بلوچستان میں قومی جمہوری طرزِ سیاست ومعاشرت اور عوام کی حاکمیت قائم کرنے کے لیے عوام کو قوت کا سرچشمہ قراردیکر فرد کے ہاتھوں فرد کےاستحصال کا مکمل خاتمہ کرے گی اور ہرشہری کی بلاامتیاز رنگ ونسل،مذہب و عقیدہ،
ذات وجنس، بلوچ قومی اقتداراعلیٰ کے قیام کے امور میں حصّہ لینے،عہدہ حاصل کرنے،عوامی اداروں میں منتخب ہونے اور مملکتی معاملات میں اپنا نقطہ ء نظر پیش کرنے کی یکساں آزادی کے حق کی ضمانت دے گی۔
(ii)
قومی جمہوری سیاست کی سیاسی پالیسی کی بنیادعوامی جمہوری نظام پر قائم کی جائے گی جو عوام کی فلاح وبہبود ،ترقی وخوشحالی کی ضامن ہوگی۔
(iii)
احترام وتحفظ کیا جائے گا۔جداگانہ طریقہء انتخاب کی جگہ’’بالغ رائے دہی‘‘ ایک فرد ایک فرد ایک ووٹ کے اصول کے تحت عوام کے حق رائے دہی کو تسلیم کرکے اس کا ایک ووٹ کی بنیاد پر’’مخلوط طریقہء انتخاب‘‘ کے اصول کو اختیارکیا جائے گا۔اور
تحریروتقریر،تنظیم سازی،اظہاررائے اور حق رائے دہی کی آزادی کی ضمانت دی جائے گی۔
(iv)
جنسی امتیاز کا خاتمہ کیا جائے،معاشرہ میں عورت اور مردکی یکساں اور مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کی جائے گی اور بلوچ قومی تعمیروترقی کے عمل میں بلوچ خواتین کی مساویانہ شراکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
(v)
روزگار،تعلیم،رہائش،علاج معالجہ،خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بنیادی حق کے طورپر تسلیم کیا جائے گا اور اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے جائیںگے۔
(vi)
بچوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ اُن کی پروش،تعلیم وتربیت اور صحت وغذائی ضروریات پرخصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ وہ معاشرے کی تعمیروترقی میں صحت مند اورباصلاحیت افراد کی حیثیت سے مثبت وتعمیری کرداراداکرسکیں۔
(vii)
طبقاتی وتجارتی بنیادوں پر چلنے والے تعلیمی اداروں پرپابندی عائد کی جائے گی اور تمام شہریوں کو یکساں تعلیم کی سہولتیںفراہم کی جائیں گی۔اور میٹرک تک تعلیم مفت اور لازمی قراردی جائے گی۔ماد ری زبانوں میں تعلیم کو بنیادی حق کے طورپر تسلیم کرکےاسے تعلیمی اداروں میںرائج کیا جائے گا۔
(viii)
بلوچستان کے شہری اوردیہی علاقوں میں عالمی معیارکے جدید تعلیمی،فنی وسائنسی درسگاہیں اور صحت کے مراکز کھولے جائیں گے
(ix)
جدوجہد کی جائے گی۔اورآئی ایل او کے چارٹر کے مطابق مزدوروں کے حقوق کا تحفظ مزدوروں کو یونین سازی، حقِ ہڑتال،اجتماعی سوداکاری کے حقوق دلانے کے لیےکیا جائے گا۔ مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ مہنگائی کے تناسب سے مقررکی جائے گی۔
(x)
تمام مزدوروں کو روزگارفراہم کرکے ان کے حقِ روزگار کو قانونی تحفظ فراہم کی جائے گی۔بے روزگاری کی صورت میں گزارہ الائونس دینے کے انتظامات کیےجائیں گے۔
(xi)
مزدوروں اور ان کے بچوں کو علاج معالجہ اور ان کے بچوں کو تعلیمی سہولیات دینے کے لیے مناسب صنعتی قوانین بنائے جائیں گے۔نیز،صنعتی ماحول کو بہتربنانے اور شرائط محنت کو آسان ترکرنے کے لیے خاص قانونی انتظامات کیے جائیں گے۔
(xii)
صنعتوں میں ہنرمند مزدوروں کی کھپت پوری کرنے کے لیے فنی وتربیتی ادارے کھولے جائیںگے اور مزدوروں کے بچوں کے لیے تکنیکی وفنی ،تعلیمی وتربیتی اداروں میںنشستیں مخصوص کی جائیں گی۔
(xiii)
عوام کو فوری انصاف فراہم کرنے کے لیے عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کیا جائے گا اورانتظامیہ وبیوروکریسی کی ظلم،رشوت ستانی،اقرباء پروری اور دیگر سماجی برائیوں سےپاک رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے اور اس ضمن میں قوانین بنائے جائیںگے۔
(xiv)
امورسیاست میں آمریت،یک جماعتی طرزحکومت وغیر جمہوری اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے سیاسی تنظیموں اور جمہوری اداروں کے کردار کو تسلیم کرکے سیاسی عمل کوفروغ دینے کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔
(xv)
بلوچستان میں آباد تمام لسانی ومذہبی اقلیتوں کے بنیادی جمہوری وشہری حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور تمام امتیازی قوانین،جو معاشرے میںتفریق کا باعث ہیں یا بنیادی انسانی حقوق کو متاثرکرتے ہیں،کا خاتمہ کرکے تمام شہریوں کو بغیرکسی امتیاز کےیکساں حقوق ومراعات دئیے جائیں گے۔
(xvi)
اُن تمام عوام دشمن کالے قوانین کو منسوخ کیا جائے گا جو استعماری ونوآبادیاتی افسرشاہی، جاگیرداری اور گماشتہ سرمایہ داروں کے مفادات کوتحفظ دینے کے لیے بنائے گئے ہوں، ان کی جگہ مثبت بلوچ روایات واقدار،رسم ورواج، انسانی حقوق کے عالمی منشور سے ہم آہنگ قوانین رائج کیے جائیں گے۔
(xvii)
ضعیف العمر شہریوں کے لیے اولڈ ہومز اور مرکزنگہداشت قائم کیے جائیںگے۔اولڈایج بینیفٹ بیمہ پالیسیاں بنائی جائیں گی،معذوری کی صورت میں تمام اخراجات کی ذمہ داری ریاست کے سپرد ہوگی۔ضعیف العمر شہریوں کے لیےسہولیات ہرممکن انتظام کیاجائے گا۔
(xviii)
بلوچستان میں منشیات کی تجارت،استعمال اور پھیلائو کوسنگین جرم قراردیا جائے گا اور منشیات کے عادی افراد کو علاج معالجہ وبحالی کے لیے فوری نوعیت کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اور منشیات ودیگر سماجی برائیوں کو سدباب کرنے کے لیے ہمہ گیرجدوجہد کی جائے گی۔
(xix)
ڈاکٹرز،انجنئیرز،ٹیچرزاورتمام ملازم پیشہ اور ہنرمند افراد کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
بنیادی انسانی،جمہوری وسماجی حقوق کی بحالی وتحفظ
بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچستان میں سیاسی وسماجی ڈھانچے کو قومی جمہوری سانچے میں ڈھالنے کے لیے بنیادی انسانی،جمہوری وسماجی حقوق کی بحالی وتحفظ کے لیے
مندرجہ ذیل نکات پرجدوجہد کرے گی
(i)
بلوچ نیشنل موومنٹ،بلوچستان میں قومی جمہوری طرزِ سیاست ومعاشرت اور عوام کی حاکمیت قائم کرنے کے لیے عوام کو قوت کا سرچشمہ قراردیکر فرد کے ہاتھوں فرد کےاستحصال کا مکمل خاتمہ کرے گی اور ہرشہری کی بلاامتیاز رنگ ونسل،مذہب و عقیدہ،
ذات وجنس، بلوچ قومی اقتداراعلیٰ کے قیام کے امور میں حصّہ لینے،عہدہ حاصل کرنے،عوامی اداروں میں منتخب ہونے اور مملکتی معاملات میں اپنا نقطہ ء نظر پیش کرنے کی یکساں آزادی کے حق کی ضمانت دے گی۔
(ii)
قومی جمہوری سیاست کی سیاسی پالیسی کی بنیادعوامی جمہوری نظام پر قائم کی جائے گی جو عوام کی فلاح وبہبود ،ترقی وخوشحالی کی ضامن ہوگی۔
(iii)
احترام وتحفظ کیا جائے گا۔جداگانہ طریقہء انتخاب کی جگہ’’بالغ رائے دہی‘‘ ایک فرد ایک فرد ایک ووٹ کے اصول کے تحت عوام کے حق رائے دہی کو تسلیم کرکے اس کا ایک ووٹ کی بنیاد پر’’مخلوط طریقہء انتخاب‘‘ کے اصول کو اختیارکیا جائے گا۔اور
تحریروتقریر،تنظیم سازی،اظہاررائے اور حق رائے دہی کی آزادی کی ضمانت دی جائے گی۔
(iv)
جنسی امتیاز کا خاتمہ کیا جائے،معاشرہ میں عورت اور مردکی یکساں اور مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کی جائے گی اور بلوچ قومی تعمیروترقی کے عمل میں بلوچ خواتین کی مساویانہ شراکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
(v)
روزگار،تعلیم،رہائش،علاج معالجہ،خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بنیادی حق کے طورپر تسلیم کیا جائے گا اور اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے جائیںگے۔
(vi)
بچوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ اُن کی پروش،تعلیم وتربیت اور صحت وغذائی ضروریات پرخصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ وہ معاشرے کی تعمیروترقی میں صحت مند اورباصلاحیت افراد کی حیثیت سے مثبت وتعمیری کرداراداکرسکیں۔
(vii)
طبقاتی وتجارتی بنیادوں پر چلنے والے تعلیمی اداروں پرپابندی عائد کی جائے گی اور تمام شہریوں کو یکساں تعلیم کی سہولتیںفراہم کی جائیں گی۔اور میٹرک تک تعلیم مفت اور لازمی قراردی جائے گی۔ماد ری زبانوں میں تعلیم کو بنیادی حق کے طورپر تسلیم کرکےاسے تعلیمی اداروں میںرائج کیا جائے گا۔
(viii)
بلوچستان کے شہری اوردیہی علاقوں میں عالمی معیارکے جدید تعلیمی،فنی وسائنسی درسگاہیں اور صحت کے مراکز کھولے جائیں گے
(ix)
جدوجہد کی جائے گی۔اورآئی ایل او کے چارٹر کے مطابق مزدوروں کے حقوق کا تحفظ مزدوروں کو یونین سازی، حقِ ہڑتال،اجتماعی سوداکاری کے حقوق دلانے کے لیےکیا جائے گا۔ مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ مہنگائی کے تناسب سے مقررکی جائے گی۔
(x)
تمام مزدوروں کو روزگارفراہم کرکے ان کے حقِ روزگار کو قانونی تحفظ فراہم کی جائے گی۔بے روزگاری کی صورت میں گزارہ الائونس دینے کے انتظامات کیےجائیں گے۔
(xi)
مزدوروں اور ان کے بچوں کو علاج معالجہ اور ان کے بچوں کو تعلیمی سہولیات دینے کے لیے مناسب صنعتی قوانین بنائے جائیں گے۔نیز،صنعتی ماحول کو بہتربنانے اور شرائط محنت کو آسان ترکرنے کے لیے خاص قانونی انتظامات کیے جائیں گے۔
(xii)
صنعتوں میں ہنرمند مزدوروں کی کھپت پوری کرنے کے لیے فنی وتربیتی ادارے کھولے جائیںگے اور مزدوروں کے بچوں کے لیے تکنیکی وفنی ،تعلیمی وتربیتی اداروں میںنشستیں مخصوص کی جائیں گی۔
(xiii)
عوام کو فوری انصاف فراہم کرنے کے لیے عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کیا جائے گا اورانتظامیہ وبیوروکریسی کی ظلم،رشوت ستانی،اقرباء پروری اور دیگر سماجی برائیوں سےپاک رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے اور اس ضمن میں قوانین بنائے جائیںگے۔
(xiv)
امورسیاست میں آمریت،یک جماعتی طرزحکومت وغیر جمہوری اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے سیاسی تنظیموں اور جمہوری اداروں کے کردار کو تسلیم کرکے سیاسی عمل کوفروغ دینے کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔
(xv)
بلوچستان میں آباد تمام لسانی ومذہبی اقلیتوں کے بنیادی جمہوری وشہری حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور تمام امتیازی قوانین،جو معاشرے میںتفریق کا باعث ہیں یا بنیادی انسانی حقوق کو متاثرکرتے ہیں،کا خاتمہ کرکے تمام شہریوں کو بغیرکسی امتیاز کےیکساں حقوق ومراعات دئیے جائیں گے۔
(xvi)
اُن تمام عوام دشمن کالے قوانین کو منسوخ کیا جائے گا جو استعماری ونوآبادیاتی افسرشاہی، جاگیرداری اور گماشتہ سرمایہ داروں کے مفادات کوتحفظ دینے کے لیے بنائے گئے ہوں، ان کی جگہ مثبت بلوچ روایات واقدار،رسم ورواج، انسانی حقوق کے عالمی منشور سے ہم آہنگ قوانین رائج کیے جائیں گے۔
(xvii)
ضعیف العمر شہریوں کے لیے اولڈ ہومز اور مرکزنگہداشت قائم کیے جائیںگے۔اولڈایج بینیفٹ بیمہ پالیسیاں بنائی جائیں گی،معذوری کی صورت میں تمام اخراجات کی ذمہ داری ریاست کے سپرد ہوگی۔ضعیف العمر شہریوں کے لیےسہولیات ہرممکن انتظام کیاجائے گا۔
(xviii)
بلوچستان میں منشیات کی تجارت،استعمال اور پھیلائو کوسنگین جرم قراردیا جائے گا اور منشیات کے عادی افراد کو علاج معالجہ وبحالی کے لیے فوری نوعیت کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اور منشیات ودیگر سماجی برائیوں کو سدباب کرنے کے لیے ہمہ گیرجدوجہد کی جائے گی۔
(xix)
ڈاکٹرز،انجنئیرز،ٹیچرزاورتمام ملازم پیشہ اور ہنرمند افراد کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
.gif)